بنگلورو23؍ستمبر(ایس او نیوز) ریاستی جنتادل (ایس) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کاویری طاس کے کسانوں کو فصلوں کے نقصان کے عوض فی ایکڑ 50ہزار روپیوں کا معاوضہ ادا کیا جائے اور ساتھ ہی کاویری طاس کے عوام کو بغیر کسی رکاوٹ کے پینے کا پانی مہیا کرایا جائے۔آج منعقدہ جے ڈی ایل پی اجلاس میں پارٹی لیڈر ایچ ڈی کمار سوامی کی قیادت میں یہ قرار داد منظور کی گئی۔ کمار سوامی نے کہاکہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق تملناڈو کو کاویری کا پانی فراہم کردئے جانے کے سبب کاویری طاس کے چاروں آبی ذخائر میں پانی کی سطح بہت کم ہوچکی ہے۔کاویری طاس میں آنے والی 19لاکھ ایکڑ کی فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے ان کسانوں کو عارضی امداد کے طور پر فی ایکڑ 50 ہزار روپے ادا کئے جائیں۔ تملناڈو کو پانی کی فراہمی کا سلسلہ موقوف کیاجائے اور پینے کے پانی کے مسئلے کی یکسوئی کی طرف حکومت متوجہ ہو۔ جے ڈی ایس نے کسانوں کے مفادات کے تحفظ میں حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے ہر قدم کی تائید کا اعلان کیا۔جنتادل(ایس) کے نائب لیڈر وائی ایس وی دتہ نے کہاکہ کاویری کے ساتھ مہادائی مسئلے پر بھی اسی طرح کی توجہ دی جائے۔ اور خصوصی اجلاس کو ایک دن اور بڑھاکر کل مہادائی مسئلے پر بحث کی جائے۔میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاست کی زمین ، زبان اور پانی کے مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں نے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔ تملناڈو کو پانی کی فراہمی روکنے کے ساتھ کاویری نگرانی بورڈ کے قیام کے معاملے میں بھی حکومت کو سخت موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ جنتادل (ایس) حکومت کی طرف سے جو بھی سخت فیصلہ لیا جائے گا اس کے ساتھ رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ آج کے خصوصی اجلاس کے ذریعہ کرناٹک کے منتخب نمائندوں نے عدلیہ کواپنی حدود میں رہنے کی تاکید کی ہے، اور سپریم کورٹ کی طرف سے آئین کی پامالی ہونے نہ پائے یہ یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریمکورٹ کے فیصلے کی وجہ سے ریاست کے عوام کو پینے کاپانی بھی میسر نہیں ہوپاتا ۔ اسی وجہ سے عدالت کے فیصلے کی نفی کرنے کیلئے لیجسلیچر کا خصوصی اجلاس منظم کیاگیا اور تمام سیاسی جماعتوں نے اس پر مثالی مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کو پیغام دیا ہے کہ عوام کی ضرو ریات سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔